آصف زرداری کا قوم کو ایمانداری پر لیکچرقیامت کی نشانی ہے،چوہدری نثار

46

وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ یہ قیامت کی نشانی ہے کہ آصف زرداری قوم کو ایمانداری پر لیکچردیں، آج وہ لوگ کرپشن پر لیکچر دے رہے ہیں،جن کے دور اقتدار میں عجب کرپشن کی غضب کہانی کا پروگرام روز ہوتا تھا۔

وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نےواہ کینٹ میں  پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم کل کے فیصلہ کو عدالتی فیصلہ تسلیم کرتے ہیں ،اسے سیاسی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے،عدالتوں کے اوپر عدالتیں لگ رہی ہیں،لوگ اپنی خواہشات کے مطابق عجیب منطق پیش کررہے ہیں،اگر مثبت طریقے سے دیکھا جائے تو یہ ایک متفقہ فیصلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دو ججز نے اختلاف رائے کا اظہار ضرور کیا مگر جے آئی ٹی بنانے میں پانچوں ججز کے دستخط موجود ہیں،کوئی بھی عدالتی فیصلہ کسی کی خواہش کے مطابق نہیں ہوتا،قانون اور آئین کے مطابق ہوتا،مزید تفتیش کیلئے جے آئی ٹی بنائی گئی ہے، سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ جے آئی ٹی بنے اور آئی ایس آئی اور ایم آئی اس کا حصہ بنے،وزیراعظم نے سختی سے کہا کہ کسی صورت فیصلے کو تقسیم نہ کریں ہم اسے عدالت کا فیصلہ سمجھتے ہیں۔

وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ نوازشریف کے خلاف الٹی گنگا بہائی گئی کہ آپ کو ثابت کرنا ہے۔ کیس یہ ہے کہ کچھ فلیٹس وزیراعظم اور ان کی فیملی نے خریدے ان کا پیسہ کہاں سے آیا، وزیراعظم کے خاندان کا موقف ہے کہ ہم یہ پیسہ یہاں سے لے کر نہیں گئے،یہ سرے محل اور فرانس میں جو محل ہیں ان کا کیس نہیں ہے، نوازشریف اوران کے خاندان نے روز اول سے فلیٹس کو چھپا کر نہیں رکھا،وزیراعظم نے اپنے خاندان کو عدالت سے پیش کیا یہ اچھی روایت ہے،کوئی پریشر نہیں تھا،دھرنا فیل ہوچکا تھا۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججز سمجھتے ہیں کہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے،ہمیں اس کا احترام کرنا چاہیے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ آرٹیکل 63,62 پر آصف علی زرداری لوگوں کو سرٹیفکیٹ دیں یقیناً قیامت کی نشانی ہے، آج وہ لوگ کرپشن پر لیکچر دے رہے ہیں،جن کے دور اقتدار میں عجب کرپشن کی غضب کہانی کا پروگرام روز ہوتا تھا۔سوئس عدالتوں سے سزا یافتہ آج ہمیں لیکچر دے رہیں، چیونٹیوں کو بھی اب پر لگے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اللہ کے سامنے جوابدہ ہوں،ایسے بیسیوں فیصلے ہیں جہاں ججز نے اختلاف کیا،ادھر پانچ ججوں نے تفتیشی ٹیم بنانے پر دستخط کئے،اگر میرے سامنے کوئی کرپشن ہوتی تو میں بہت پہلے حکومت کو چھوڑ دیتا،میرا ضمیر مطمئن ہے،الزامات کا جواب میرے پاس نہیں،الزامات کے ثبوت بھی ہونے چاہیے،فیصلہ سپریم کورٹ کو کرنے دیں،فیصلہ شواہد کی بنیاد پر ہوگا،میں نے پہلے آفر کی تھی کہ آپ اپنے پسندیدہ آفیسر طے کرو میں اس کی ٹیم بنالوں گا۔

انہوں نے کہاکہ چند لوگ کنفیوژن پیدا کر رہے ہیں،یہ انتشار اور شورشرابہ چاہتے ہیں،حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم مکمل طور پر سپریم کورٹ کا احترام کریں گے،ڈان لیکس کی رپورٹ پیر یا منگل کو پیش کردی جائے گی،اپوزیشن کی مرضی سے کوئی نگران حکومت کا سیٹ اپ نہیں بنا،سارا پیپلزپارٹی کی مرضی سے بنا تھا،چیف الیکشن کمشنر،اپوزیشن اور حکومت کے اتفاق رائے سے منتخب ہوئے،چار میں سے تین ممبر الیکشن کمیشن ان کی مرضی سے آئے،نجم سیٹھی کی میں نے شہبازشریف نے نگران سیٹ اپ میں لانے کی مخالفت کی۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک کے قانون کا تماشہ لگادیا گیا،ایک طرف فساد کو ختم کرتے ہیں تو دوسری طرف اٹھ جاتاہے،وہ مسلم لیگ(ن) کی کارکردگی سے خوفزدہ ہیں،ہمارا موازنہ پچھلی حکومت سے کیا جائے،ہماری کارکردگی پر نہیں ہمارے ناکردہ گناہوں پر تجزئیے ہوئے،مخالفین کی پالیسی ہے نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے،حکومت جس دن سے آئی ہے اس کو کام نہیں کرنے دیا جارہا۔

چوہدری نے نثار نے کہا کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی زرداری صاحب سے اتفاق کریں گے کہ ابھی کسی طر ف سے مٹھائی بانٹنے کی گنجائش نہیں، جتنا بلاخوف و خطر ن لیگ کے ارکان اپنے پارٹی صدر کے سامنے بات کرسکتے ہیں، چیلنج کرتا ہوں دوسری جماعت میں ایسا نہیں۔

انہوں نے کہاکہ یہ حقیقت ہے کہ وفاقی حکومت کے کہنے پر آپریشن شروع ہوا،آپ کے دشمن بھی کہتے ہیں کہ کراچی میں بہت بڑی بہتری آئی ہے،سندھ حکومت کو رینجرز کی کارکردگی کا سب سے بڑا فائدہ ہوا،ہر تین ماہ بعد رینجرز کی کارکردگی پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔

چوہدری نثار نے کہاکہ بجلی کی کمی باتوں سے نہیں اقدامات سے دور ہوگی،لوڈشیڈنگ پر عوام کی مشکلات کم ہونے والی ہیں،حکومت صورتحال کی بہتری کیلئے دن رات کوشاں ہے،لوڈشیڈنگ ختم کرنے کیلئے جب منصوبے نہ لگائے جائیں تو طلب بڑھتی رہتی ہے،دسمبر تک چھ ہزار میگاواٹ بجلی نظام میں شامل ہوجائے گی۔

Print Friendly
SHARE