اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا ہے کہ جس کسی نے بھی توہین رسالت کی وہ قانون کے شکنجے سے نہیں بچ سکتا اور خبر بیچنے کے لیے ناموس رسالتؐ بیچنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی

25

اسلام آباد(صباح نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا ہے کہ جس کسی نے بھی توہین رسالت کی وہ قانون کے شکنجے سے نہیں بچ سکتا اور خبر بیچنے کے لیے ناموس رسالتؐ بیچنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقدس ہستیوں کی شان میں سوشل میڈیا پر گستاخی سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی سربراہی میں ہوئی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ایف آئی اے مظہر الحق کاکا خیل نے عدالت کو بتایا کہ 3متنازع ویب سائٹس کے علاوہ 6اور سائٹس کی بھی نشاندہی کی ہے، فیس بک انتظامیہ کو نوٹس بھی بھیجا ہے جسے انہوں نے تسلیم بھی کیا ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جس کسی نے بھی توہین رسالت کی وہ قانون کے شکنجے سے بچ نہیں سکے گا لیکن اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ کسی بے گناہ کو توہین رسالت کا مرتکب نہ بنا دیا جائے، ڈائریکٹر ایف آئی اے اور آئی جی اسلام آباد مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کی نشاندہی کرنے میں سختی برتیں۔ عدالت نے کہا کہ ٹی وی شوز سے لگ رہا کہ اس معاملے میں کوئی کام نہیں کر رہا، ٹی وی والوں کو تو یہ بھی برا لگا کہ آرڈر لکھواتے ہوئے جج کے آنسو کیوں بہے، کچھ لوگ اس کو مختلف زاویے سے دیکھ رہے ہیں، اللہ سب کو ہدایت دے لیکن خبر بیچنے کے لیے ناموس رسالت ؐبیچنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، آئین میں ترمیم کرنا صحافیوں کا نہیں قانون ساز اداروں کا کام ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے علما، صحافیوں اور عوام سے گزارش کی کہ میرے حق یا عاصمہ جہانگیر کی مخالفت میں سوشل میڈیا پر کسی قسم کی کوئی مہم نہ چلائی جائے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ کچھ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ میرے خلاف ریفرنس ہے، شاید اس لیے کہ سماعت ایسے کی جا رہی ہے، میں چاہتا ہوں کہ میرا ٹرائل قذافی سٹیڈیم میں ہو ۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ توہین رسالت کا مرتکب کسی صورت قانون کے شکنجے سے نہیں بچ سکے گا۔ آخری فیصلہ لکھنے کے لیے علما، صحافیوں اور وکلا سمیت نقادوں سے بھی رائے لی جائے گی۔عدالت نے کیس کی سماعت 17مارچ تک ملتوی کردی۔

Print Friendly
SHARE